احمد آباد، 13/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) گجرات کے بھڑوچ شہر کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے، جس میں ایک ہوٹل کی ۱۰؍اسامیوں کیلئے تقریباً ایک ہزار نوجوان انٹرویو دینے پہنچے تھے۔ اس دوران خوب دھکم پیل ہوئی اور تقریباً بھگدڑ جیسا ماحول بن گیا۔ دھکامکی کے سبب یہاں نصب ریلنگ ٹیڑھی ہوگئی۔ وائرل ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان ایک ہوٹل میں ملازمت کے لئے پہنچے ہیں اور ان کے درمیان دھکا مکی ہو رہی ہے۔ اسی دھکا مکی کے دوران وہاں پر لگی ایک ریلنگ گر جاتی ہےجس سے کئی نوجوان بھی نیچے گر جاتے ہیں۔
اس ویڈیو پرتبصرہ کرتے ہوئے لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ’’ بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں بے روزگاری کی بیماری کا مرکز بن گئی ہیں۔ ‘‘ راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پرمزید لکھا کہ ’’بے روزگاری کی بیماری ہندوستان میں وبا کی شکل اختیار کر چکی ہے اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستیں اس بیماری کا مرکز بن گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک عام سی نوکری کیلئے قطاروں میں دھکے کھاتا ہندوستان کا مستقبل ہی نریندر مودی کے ’امرت کال‘ کی حقیقت ہے۔ ‘‘ اس معاملے میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے اور کہا کہ ’’یہ ویڈیو بی جے پی کے ذریعہ گجرات کےعوام سے کئے گئے ’دھوکہ بازی ماڈل‘ کا ثبوت ہے۔ گزشتہ ۱۰؍ سال میں مودی حکومت نے جس طرح نوجوانوں کی ملازمتیں چھینی ہیں، ان کے مستقبل کو تباہ کیا ہے، اس کا ٹھوس ثبوت یہ ویڈیو ہے۔ ‘‘